نفس اور انسان

میں نے اب تک کی سترہ سالہ زندگی میں جو سب سے مشکل کام جانا وہ ہے اپنی خواہشات اپنے نفس پر قابو رکھنا۔ انسان جب اپنے نفس کی غلامی میں آجاتا ہے تو اس میں اُس حیوانی خواہش کے علاوہ کچھ سوچنے کی قوت ہی نہیں ہوتی وہ بس اُسی حیوانی خواہشات کے سمندر میں غرق ہوتا جاتا ہے اور اِس بات سے بالکل بےخبر ہوجاتا ہے کہ وہ کون ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ اور جب وہ اُس حیوانی خواشات کے سمندر سے نکل کر انسانی خواشات کے ساحل پر آتا ہے تو آُسے احساس ہوتا ہے کہ اُس نے کیسا پست فعل انجام دیا اور  ارادہ کرتا ہے کہ اگلی بار نفس کی غلامی اختیار نہیں کرے مگر پھر بھی اگلی بار نفس کا خادم بن جاتا ہے اور اُس کے بعد خدا سے دعا کرتا ہے کہ مجھے قوتِ ضبطِ نفس عطا کر اور پھر اُس میں تھوڑا تھوڑا اپنے نفس پر حکومت کرنا شروع کردیتا اور آہستہ آہستہ اِس حکومت کی وسعت بڑھتی جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک مکمل انسان محسوس کرنے لگتا ہے

Comments

Popular posts from this blog