Posts

نفس اور انسان

میں نے اب تک کی سترہ سالہ زندگی میں جو سب سے مشکل کام جانا وہ ہے اپنی خواہشات اپنے نفس پر قابو رکھنا۔ انسان جب اپنے نفس کی غلامی میں آجاتا ہے تو اس میں اُس حیوانی خواہش کے علاوہ کچھ سوچنے کی قوت ہی نہیں ہوتی وہ بس اُسی حیوانی خواہشات کے سمندر میں غرق ہوتا جاتا ہے اور اِس بات سے بالکل بےخبر ہوجاتا ہے کہ وہ کون ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔ اور جب وہ اُس حیوانی خواشات کے سمندر سے نکل کر انسانی خواشات کے ساحل پر آتا ہے تو آُسے احساس ہوتا ہے کہ اُس نے کیسا پست فعل انجام دیا اور  ارادہ کرتا ہے کہ اگلی بار نفس کی غلامی اختیار نہیں کرے مگر پھر بھی اگلی بار نفس کا خادم بن جاتا ہے اور اُس کے بعد خدا سے دعا کرتا ہے کہ مجھے قوتِ ضبطِ نفس عطا کر اور پھر اُس میں تھوڑا تھوڑا اپنے نفس پر حکومت کرنا شروع کردیتا اور آہستہ آہستہ اِس حکومت کی وسعت بڑھتی جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک مکمل انسان محسوس کرنے لگتا ہے
وہ رمضان کے دن تھے۔۔۔ ۔ انہی دنوں مجھے مطالعے کا شوق ہوا تو میں نے کچھ کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ پھر میں نے سوچا کے مجھے اخبار پڑھنا چاہیے۔ میں نے کسی سے سنا تھا کہ اتوار کے دن اخبار میں آرٹیکل زیادہ آتے ہیں۔ تو اتوار والے دن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کرکے جاگا ہوا تھا صبح کے آٹھ بجے اور اخبار والا اپنی شور مچاتی موٹر سایئکل کے ساتھ ہماری گلی میں داخل ہوا۔ وہ گھروں میں اخبار دینے کے لیے اپنے بیگ سے اخبار نکال ہی رہا تھا کہ میں اسکے پاس گیا اور پوچھا کہ انکل اخار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہاں بیٹا ہیں‘‘ میں نے ان سے اخبار خریدلیا۔ چونکہ میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اخبارخرید رہا تھا تو میں ان سے پوچھا کہ اس میں آرتیکل ہیں نا؟؟ انہوں نے بڑے چڑچڑے اور مزاہیہ انداز میں جواب دیا کہا کہ ’’ بھئی ہمیں نہیں پتہ کہ یہ آرتیکل پارٹیکل کیا ہوتا ھم تو بس اخبار بیچنے آئے ہیں‘‘ اب ان صاحب کے اس جملے کا آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں یہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں۔