وہ رمضان کے دن تھے۔۔۔ ۔ انہی دنوں مجھے مطالعے کا شوق ہوا تو میں نے کچھ کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ پھر میں نے سوچا کے مجھے اخبار پڑھنا چاہیے۔ میں نے کسی سے سنا تھا کہ اتوار کے دن اخبار میں آرٹیکل زیادہ آتے ہیں۔ تو اتوار والے دن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کرکے جاگا ہوا تھا صبح کے آٹھ بجے اور اخبار والا اپنی شور مچاتی موٹر سایئکل کے ساتھ ہماری گلی میں داخل ہوا۔ وہ گھروں میں اخبار دینے کے لیے اپنے بیگ سے اخبار نکال ہی رہا تھا کہ میں اسکے پاس گیا اور پوچھا کہ انکل اخار ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہاں بیٹا ہیں‘‘ میں نے ان سے اخبار خریدلیا۔ چونکہ میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اخبارخرید رہا تھا تو میں ان سے پوچھا کہ اس میں آرتیکل ہیں نا؟؟ انہوں نے بڑے چڑچڑے اور مزاہیہ انداز میں جواب دیا کہا کہ ’’ بھئی ہمیں نہیں پتہ کہ یہ آرتیکل پارٹیکل کیا ہوتا ھم تو بس اخبار بیچنے آئے ہیں‘‘
اب ان صاحب کے اس جملے کا آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں یہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں۔
Comments
Post a Comment